24 دسمبر 2015 - 18:54
حزب اللہ کے شہید رہنما سمیر قنطار کا وصیت نامہ

حزب اللہ لبنان نے سمیر قنطار کی وصیت کے متن کو کہ جو صہیونی حکومت کے دمشق کے آس پاس کیے گئے حملے میں شہید ہو گئے تھے منتشر کیا ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صہیونی جیلوں کے سب سے پرانے قیدی سمیر قنطار کے وصیتنامے میں آیا ہے کہ:  جس زمانے سے میں نے جنگ اور جہاد کی راہ کو لبنان اور فلسطین کے لوگوں کو ظلم کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے شروع کیا تھا مجھے یقین تھا کہ جس راستے کو میں نے اختیار کیا ہے  اس کا انجام یا کامیابی یا شہادت ہے ۔اس لیے کہ مکمل کامیابی اور صہیونی حکومت کو صفحہء ہستی سے نابود کرنے کے لیے جتنی جانفشانیاں اب تک ہوئی ہیں اس سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہے اور اس بات کا احتمال قوی ہے کہ شہادت کامیابی پر سبقت لے جائے گی ۔میں نے تما م مومنین سے عہد کیا ہے کہ جب تک فلسطین آزاد نہیں ہو جاتا میں فلسطین نہیں جاوں گا ۔البتہ اس وجہ سے نہیں کہ میں فلسطین واپس نہیں جاوں گابلکہ اس وجہ سے کہ میرا اصرار ہے کہ یہ راستہ جو جہاد اور جانفشانی کا راستہ ہے اس کو مکمل طور پر طے کروں گااور اس کام کو اس کی بہترین شکل میں کہ جو ہتھیار اور بندوق کے ساتھ جنگ ہے مکمل کروں گا ۔خداوند عز و جل نے مجھے عزت بخشی ہے اور مجھے اسلامی مزاحمتی تحریک کے مومنین کے درمیان جگہ دی ہے کہ جنہوں نے جنگ اور جہاد کی ذمہ داری اٹھائی ہے اور وہ پیٹھ دکھانے والے اور سازش کا شکار ہونے والے نہیں ہیں ۔

اس وصیت نامے میں آیا ہے کہ آج خدا نے مجھے اس شہادت کے ذریعے عزت بخشی ہے ،وہ شہاددت جس کو میں نے خداوند عالم سے مانگا تھا کہ وہ اسے مجھ سے قبول کرے ۔ میں اپنے راستے پر چلتا رہوں گا اور مطمئن ہوں کہ جہاد کا یہ سلسلہ رکے گا نہیں اور نہ پیچھے مڑے گا اور فلسطین سے دور نہیں ہو گا ،چونکہ خدا نے اس تحریک کو ایسے رہبروں کے ذریعے عزت بخشی ہے کہ جنہوں نے مدتوں پہلے ہمیں کامیابی کے اطمئنان اور ایمان سے مسلح کر دیا تھا ۔جس شخصیت نے شروع میں اس اسلامی تحریک کو زندہ کیا وہ  آیۃ اللہ العظمی سید روح اللہ موسوی  خمینی اور ان کے جانشین بر حق کہ جنہوں نے حق کے پرچم کو بلند کیا ہے ولی امر مسلمین امام خامنہ ای اور اسی طرح اسلامی مزاحمتی تحریک میں ہمارے رہبر سید حسن نصر اللہ ہیں اور میں صدق دل سے سید حسن نصر اللہ کی قدر کرتا ہوں کہ قید سے میری آزادی سے لے کر شہادت تک میری پشتیبانی کرتے رہے ہیں اور میں ان کے سچے وعدے کی قدر کرتا ہوں کہ خدا کے فضل سے اور ان کے فضل سے میں قید سے آزاد ہوا اور خداوند عز و جل سے دعا کرتا ہوں کہ ان کو اس امت کے لیے اور اس اسلامی مزاحمتی تحریک کے لیے جہادی اسلحے کے ساتھ زندہ رکھے ۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲